لکھنؤ، 24 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات میں قیاس آرائیوں کا دور جاری ہے۔جیسے ہی اس بات کی بحث ہونے لگی کہ راہل گاندھی امیٹھی کے علاوہ اب کیرالہ کی ایک سیٹ سے لوک سبھا الیکشن لڑ سکتے ہیں، ویسے ہی امیٹھی میں کانگریسیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ضلع کانگریس کے مختلف تنظیموں کے لوگوں نے راہل گاندھی کے کیرل سے الیکشن لڑنے پر اپنی خوشی ظاہر کرنا شروع کر دیا۔امیٹھی ضلع کانگریس اور امیٹھی ضلع ایس سی مورچہ نے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کر اس بات کا خیر مقدم کیا کہ ان کے لیڈر راہل گاندھی اب امیٹھی کے ساتھ ساتھ جنوبی ہندوستان کی ایک نشست سے الیکشن لڑیں گے۔امیٹھی ضلع کانگریس کی پریس ریلیز میں اس بات کی مثالیں لکھی گئی ہیں کہ کس طرح اندرا گاندھی سے لے کر سونیا گاندھی تک نے اتر پردیش کے علاوہ جنوبی ہند سے بھی جیت کر کانگریس کو پورے ملک سے جوڑا۔امیٹھی سے ایم ایل سی اور گاندھی نہرو خاندان کے قریبی دیپک سنگھ نے سب سے پہلے اس بات کی معلومات رسمی طورپردی کہ راہل گاندھی امیٹھی کے علاوہ جنوبی ہند سے بھی الیکشن لڑیں گے۔کانگریس اگرچہ خوشیاں منائے لیکن اتر پردیش میں بی جے پی اسے راہل گاندھی کے فرار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔امیٹھی میں بی جے پی کے انچارج اور یوگی حکومت کے اکلوتے مسلم چہرے محسن رضا نے راہل گاندھی کے جنوبی ہند سے انتخاب لڑنے کے لیے چوکیدار اور چور کے سیاق و سباق سے جوڑا ہے۔محسن رضا نے کہا کہ جب ایک مضبوط چوکیدار ہوتا ہے تو چوروں میں کھلبلی مچتی ہے اور وہ اپنے لئے محفوظ پناہ گاہ ڈھونڈتا ہے، اس وقت اسی طرح کی صورتحال امیٹھی میں دکھ رہی ہے۔بتا دیں کہ اسمرتی ایرانی نے ٹویٹ کر اسے راہل گاندھی کا فرار قرار دیا ہے اور’بھاگ راہل بھاگ‘ کو ٹرینڈ کرا رہی ہے۔اس بار امیٹھی میں راہل گاندھی کے سامنے اسمرتی ایرانی ہوں گی اور اس بار مقابلہ انتہائی سخت اور دلچسپ ہو گا۔اب تک امیٹھی سے فاتح رہے نہرو گاندھی خاندان کو یہ سیٹ بچانے میں خاصی محنت کرنی پڑے گی۔